مواد پر جائیں
آن لائن خطرے کی سطح: زیادہ پاکستان کے لیے سائبر آگاہی پروگرام سائبر کرائم رپورٹ — NCCIA 1799
پیسہ اور بینکنگ

جعلی BISP / سرکاری امداد کے پیغامات

پاکستان میں عام فراڈ۔ اصل مثال دیکھیں، خطرے کی نشانیاں پہچانیں اور جانیں کہ بالکل کیا کرنا ہے — اور اگر نقصان ہو چکا ہو تو شکایت کیسے کریں۔

پیغام کچھ ایسا ہوتا ہے

اصل مثال

SMS · 8XXX / انجان نمبرمبارک ہو! آپ کی 25,000 روپے کی BISP رقم منظور ہو گئی ہے۔ وصولی کے لیے شناختی کارڈ نمبر اور آنے والا کوڈ اس نمبر پر بھیجیں۔

یہ کیسے ہوتا ہے

فراڈیے سرکاری نام اور لوگو نقل کرتے ہیں، پھر آپ کا شناختی کارڈ نمبر، OTP یا “پراسیسنگ فیس” لیتے ہیں۔ OTP سے آپ کے نام پر والیٹ کھولتے یا اکاؤنٹ ہتھیا لیتے ہیں۔

مشکوک میسج چیک کریں

خطرے کی نشانیاں

  • آپ نے درخواست ہی نہیں دی مگر “منتخب” ہو گئے
  • عام موبائل نمبر سے پیغام
  • OTP، PIN یا فیس کا مطالبہ
  • لنک جو بالکل .gov.pk نہیں

کیا کریں

  • صرف آفیشل ویب سائٹ یا آفیشل شارٹ کوڈ پر چیک کریں
  • امداد کے لیے کبھی OTP نہ دیں اور نہ فیس دیں
  • نمبر PTA اور NCCIA (1799) کو رپورٹ کریں
واٹس ایپ پر شیئر کریں
عام سوالات

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

“جعلی BISP / سرکاری امداد کے پیغامات” — کیا یہ اصلی ہو سکتا ہے؟

نہیں۔ کوئی اصل بینک، والیٹ، سرکاری ادارہ یا کمپنی کبھی آپ سے OTP، PIN یا پاس ورڈ نہیں مانگتی اور نہ ہی انعام یا امداد کے لیے فیس لیتی ہے۔ شک ہو تو آفیشل نمبر پر خود رابطہ کر کے تصدیق کریں۔

اس فراڈ کی شکایت کہاں کریں؟

سائبر کرائم کی شکایت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو کریں — ہیلپ لائن 1799۔ فراڈ نمبر PTA کو رپورٹ کریں اور اگر رقم گئی ہو تو فوراً اپنے بینک یا والیٹ کی آفیشل ہیلپ لائن پر کال کریں۔

اگر میں کوڈ دے چکا یا رقم بھیج چکا ہوں تو کیا کروں؟

فوراً بینک/والیٹ کو کال کر کے اکاؤنٹ بلاک کروائیں، پاس ورڈ اور PIN بدلیں، تمام اسکرین شاٹس اور ٹرانزیکشن آئی ڈی محفوظ کریں اور NCCIA (1799) کو شکایت درج کروائیں۔ جتنی جلدی کریں گے، رقم واپس ملنے کا امکان اتنا زیادہ ہوگا۔

مزید فراڈ

یہ بھی جانیں

تمام فراڈز دیکھیں

نقصان ہو گیا؟

فوراً رپورٹ کریں

سائبر کرائم کی شکایت سرکاری ادارے NCCIA کو کریں۔ ہمارا “سائبر کرائم رپورٹ” گائیڈ قدم بہ قدم طریقہ بتاتا ہے۔