کینیڈا یا یورپ کا “گارنٹی والا” ویزا، موبائل والیٹ میں فیس، اور پھر خاموشی: جعلی ویزا فراڈ آج کل پاکستان میں سب سے عام جال ہے۔
12 اکتوبر 2026 کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے راولپنڈی کے چھ کال سینٹرز سے 120 ملزمان گرفتار کیے۔ ان پر الزام ہے کہ یہ کینیڈا، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک کے ویزے کا جھانسہ دے کر لوگوں کو جعلی کاغذات دیتے تھے۔ تقریباً 800 موبائل فون اور لیپ ٹاپ قبضے میں لیے گئے، اور متاثرین کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جا رہی ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (بی ای او ای) نے بھی یاد دلایا ہے کہ ٹریڈ ٹیسٹ سینٹرز ویزا یا بیرون ملک نوکری نہیں دے سکتے۔ صرف لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر سرکاری اجازت کے ساتھ بھرتی کر سکتے ہیں۔
جعلی ویزا فراڈ کیسے ہوتا ہے
- اشتہار: فیس بک، ٹک ٹاک یا واٹس ایپ پر “آئیلٹس کے بغیر”، “100 فیصد ویزا”، “محدود سیٹیں” جیسے دعوے۔
- کال: کال سینٹر سے ایک خوش اخلاق “کنسلٹنٹ” فون کرتا ہے اور دوسروں کے ویزوں کی تصویریں بھیجتا ہے۔
- کاغذات: شناختی کارڈ، پاسپورٹ کی کاپی اور تصاویر مانگی جاتی ہیں، جو بعد میں سم یا اکاؤنٹ کے غلط استعمال میں آ سکتی ہیں۔
- پہلی فیس: “رجسٹریشن” یا “فائل” فیس جیز کیش، ایزی پیسہ یا ذاتی بینک اکاؤنٹ میں۔
- جعلی ثبوت: آفر لیٹر، ویزا لیٹر یا “ایمبیسی اپروول” جو اصلی لگتا ہے مگر جعلی ہوتا ہے۔
- مزید فیسیں: میڈیکل، انشورنس، ٹکٹ، “ایمبیسی چارجز”، ہر بار جلدی کا دباؤ۔
- غائب: نمبر بند اور پیج ختم۔
یہی کال سینٹرز اکثر رومانس اور سرمایہ کاری کے فراڈ بھی چلاتے ہیں، اس لیے آن لائن ملنے والا “دوست” بھی اسی گروہ کا حصہ ہو سکتا ہے۔
خطرے کی علامات
- ویزا یا نوکری کی “گارنٹی”۔ کوئی ایمبیسی یا اصلی آجر ویزے کی گارنٹی نہیں دیتا۔
- رقم ذاتی اکاؤنٹ یا موبائل والیٹ میں منگوائی جائے، رجسٹرڈ کمپنی کے اکاؤنٹ میں نہیں۔
- ایجنٹ لائسنس نمبر نہ دے۔
- “آج ہی پیسے بھیجیں، سیٹیں ختم ہو رہی ہیں”۔
- کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں اور پروٹیکٹر رجسٹریشن کا ذکر نہیں۔
- صرف واٹس ایپ پر رابطہ، بار بار بدلتے نمبر۔
پیسے دینے سے پہلے تصدیق کریں
- لائسنس چیک کریں: ایجنٹ سے او ای پی لائسنس نمبر لیں اور بی ای او ای کی لائسنس یافتہ فہرست میں دفتر کے پتے سمیت ملائیں۔
- نوکری چیک کریں: ہر قانونی اشتہار پر پرمیشن یا ٹریکنگ نمبر ہوتا ہے۔ اسے بی ای او ای فارن جابز پورٹل پر تلاش کریں۔
- ویزا کا راستہ: وزٹ اور اسٹڈی ویزا صرف ایمبیسی کی اپنی ویب سائٹ یا اس کے سرکاری ویزا سینٹر سے۔ ویب ایڈریس خود لکھیں، واٹس ایپ پر آئے لنک نہ کھولیں۔
- پروٹیکٹر رجسٹریشن: ورک ویزا پر جانے والے ہر شخص کے لیے لازمی ہے۔ جو ایجنٹ اسے چھوڑ دے، وہ خطرے کی علامت ہے۔
- ہمارا چیکر: میسج ڈیجیٹل گارڈ کے فراڈ چیکر میں ڈال کر جانچیں۔
اگر آپ پیسے دے چکے ہیں
- مزید کوئی ادائیگی نہ کریں، چاہے دھمکی دی جائے یا وعدہ۔
- فوراً اپنے بینک یا والیٹ کی ہیلپ لائن پر ٹرانزیکشن رپورٹ کریں۔
- ثبوت محفوظ کریں: اسکرین شاٹس، چیٹس، نمبرز، رسیدیں اور اشتہار کا لنک۔
- این سی سی آئی اے کی ہیلپ لائن 1799 یا nccia.gov.pk پر شکایت کریں۔
- جو شخص فیس لے کر رقم “واپس دلوانے” کی پیشکش کرے، وہ دوسرا فراڈ ہے۔
ہماری مدد حاصل کریں گائیڈ قدم بہ قدم بتاتی ہے کہ کون سے ثبوت رکھیں اور شکایت کیسے کریں۔
یہ پیغام اپنے خاندان کے ہر اس فرد تک پہنچائیں جو بیرون ملک جانے کا سوچ رہا ہے۔ ایک پیغام کسی خاندان کی جمع پونجی بچا سکتا ہے۔