بیرون ملک نوکری اور ویزا “پراسیسنگ” فیس
پاکستان میں عام فراڈ۔ اصل مثال دیکھیں، خطرے کی نشانیاں پہچانیں اور جانیں کہ بالکل کیا کرنا ہے — اور اگر نقصان ہو چکا ہو تو شکایت کیسے کریں۔
اصل مثال
یہ کیسے ہوتا ہے
ادائیگی کے بعد جعلی جاب لیٹر اور ویزا کاغذات بھیجے جاتے ہیں؛ ایجنٹ غائب ہو جاتا ہے یا مزید مانگتا رہتا ہے۔
خطرے کی نشانیاں
- “فری ویزا” مگر بھاری فیس
- ذاتی اکاؤنٹ میں ادائیگی
- کوئی لائسنس یافتہ دفتر نہیں جہاں جا سکیں
کیا کریں
- صرف حکومت سے لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز سے رابطہ کریں
- لائسنس کی سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں
- رسید کے بغیر پاسپورٹ یا نقد رقم نہ دیں
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
“بیرون ملک نوکری اور ویزا پراسیسنگ فیس” — کیا یہ اصلی ہو سکتا ہے؟
نہیں۔ کوئی اصل بینک، والیٹ، سرکاری ادارہ یا کمپنی کبھی آپ سے OTP، PIN یا پاس ورڈ نہیں مانگتی اور نہ ہی انعام یا امداد کے لیے فیس لیتی ہے۔ شک ہو تو آفیشل نمبر پر خود رابطہ کر کے تصدیق کریں۔
اس فراڈ کی شکایت کہاں کریں؟
سائبر کرائم کی شکایت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو کریں — ہیلپ لائن 1799۔ فراڈ نمبر PTA کو رپورٹ کریں اور اگر رقم گئی ہو تو فوراً اپنے بینک یا والیٹ کی آفیشل ہیلپ لائن پر کال کریں۔
اگر میں کوڈ دے چکا یا رقم بھیج چکا ہوں تو کیا کروں؟
فوراً بینک/والیٹ کو کال کر کے اکاؤنٹ بلاک کروائیں، پاس ورڈ اور PIN بدلیں، تمام اسکرین شاٹس اور ٹرانزیکشن آئی ڈی محفوظ کریں اور NCCIA (1799) کو شکایت درج کروائیں۔ جتنی جلدی کریں گے، رقم واپس ملنے کا امکان اتنا زیادہ ہوگا۔
یہ بھی جانیں
جعلی BISP / سرکاری امداد کے پیغامات
“بینک ہیڈ آفس” کی کال جو کوڈ مانگے
فوراً رپورٹ کریں
سائبر کرائم کی شکایت سرکاری ادارے NCCIA کو کریں۔ ہمارا “سائبر کرائم رپورٹ” گائیڈ قدم بہ قدم طریقہ بتاتا ہے۔