“PTA: آپ کی سم بلاک ہو جائے گی” والی کالز
پاکستان میں عام فراڈ۔ اصل مثال دیکھیں، خطرے کی نشانیاں پہچانیں اور جانیں کہ بالکل کیا کرنا ہے — اور اگر نقصان ہو چکا ہو تو شکایت کیسے کریں۔
اصل مثال
یہ کیسے ہوتا ہے
نمبر کھونے کا خوف آپ سے کوڈ یا ذاتی معلومات لے لیتا ہے جن سے والیٹ، واٹس ایپ ہتھیائے جاتے ہیں یا ڈپلیکیٹ سم نکلوائی جاتی ہے۔
خطرے کی نشانیاں
- افسران فون کال پر سم کی تصدیق نہیں کرتے
- کوڈ یا شناختی کارڈ کی تفصیل کا مطالبہ
- مختصر ڈیڈ لائن
کیا کریں
- فون بند کریں؛ فکر ہو تو اپنے آپریٹر کی فرنچائز جائیں
- اپنے نام پر سمیں جاننے کے لیے شناختی کارڈ نمبر 668 پر SMS کریں
- PTA ہیلپ لائن: 0800-55055
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
“PTA: آپ کی سم بلاک ہو جائے گی والی کالز” — کیا یہ اصلی ہو سکتا ہے؟
نہیں۔ کوئی اصل بینک، والیٹ، سرکاری ادارہ یا کمپنی کبھی آپ سے OTP، PIN یا پاس ورڈ نہیں مانگتی اور نہ ہی انعام یا امداد کے لیے فیس لیتی ہے۔ شک ہو تو آفیشل نمبر پر خود رابطہ کر کے تصدیق کریں۔
اس فراڈ کی شکایت کہاں کریں؟
سائبر کرائم کی شکایت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو کریں — ہیلپ لائن 1799۔ فراڈ نمبر PTA کو رپورٹ کریں اور اگر رقم گئی ہو تو فوراً اپنے بینک یا والیٹ کی آفیشل ہیلپ لائن پر کال کریں۔
اگر میں کوڈ دے چکا یا رقم بھیج چکا ہوں تو کیا کروں؟
فوراً بینک/والیٹ کو کال کر کے اکاؤنٹ بلاک کروائیں، پاس ورڈ اور PIN بدلیں، تمام اسکرین شاٹس اور ٹرانزیکشن آئی ڈی محفوظ کریں اور NCCIA (1799) کو شکایت درج کروائیں۔ جتنی جلدی کریں گے، رقم واپس ملنے کا امکان اتنا زیادہ ہوگا۔
یہ بھی جانیں
خطرناک .apk فائلیں (شادی کارڈ، بل، چالان)
جعلی BISP / سرکاری امداد کے پیغامات
فوراً رپورٹ کریں
سائبر کرائم کی شکایت سرکاری ادارے NCCIA کو کریں۔ ہمارا “سائبر کرائم رپورٹ” گائیڈ قدم بہ قدم طریقہ بتاتا ہے۔